DA NAN SAWAL-4
(دا کرونا وبا نفسیاتی اثرات ( په پښتو کې پروگرام 📻🎙️: دا نن سوال میزبان 📻🎙️ : ساجد محمود خان مہمان 📻🎙️: اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسلم / مردان میڈیکل کمپلیکس، مردان
This blog is dedicated for promotion of peace through ideas.This page will promote peace with all available resources in hand. Any one can contribute in this blog through writings, images, audios and videos
سب سے پہلے تو میں معزرت خواہ ہوں کہ یہ تحریر مجھے 21 فروری یعنی عالمی یوم مادری زبان کے دن تحریر اور شائع کرنی چاہیے تھی مگر ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔ ایک اور اہم بات یہ کہ میں اپنی کم علمی اور خاص طور پر علم لسانیات پر کمزور گرفت کی وجہ سے ایسے موضوعات پر لکھنے سے پرہیز کرتا ہوں جس سے میری کسی مثبت تحریر یا پیغام کو کسی بھی حوالے سے متنازع تحریر یا پیغام کا درجہ حاصل ہو جائے۔ ہم اکثر ان معاملات پر بہت زیادہ توجہ نہیں دیتے جو ہم پر بلا واسطہ طور پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے اثرات بہت عرصہ بعد رونما ہونے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سانحہ بنگال کے عوامل میں زبان ایک اہم مسئلہ تھا جس نے مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے لوگوں میں دوریاں پیدا کی تھیں۔
جب کبھی بھی علاقائی زبانوں بالخصوص پنجابی زبان سے وفا کا تذکرہ ہو گا تو محمد حنیف رامے کی کتاب ( پنچاب کا مقدمہ ) کا پیش لفظ ہمیں اپنی مادری زبانوں خاص کر پنجابی زبان سے پنجاب کے باشندوں کی بے وفائی اور چشم پوشی کی یاد ضرور دلاتا رہے گا۔ محمد حنیف رامے صاحب 1930ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ سیاستدان، دانشور، خطاط ، مصور، صحافی اور ایک ہمہ گیر شخصیت کی حامل انسان تھے۔ حنیف رامے صاحب کی مشہور کتاب ’’ پنجاب کا مقدمہ ‘‘ ہے جبکہ ان کی دیگر تصانیف میں اسلام کی روحانی قدریں، موت نہیں زندگی ، باز آؤ اور زندہ رہو (اداریوں کا مجموعہ) ، دُبِ اکبر اور نظموں کا مجموعہ دن کا پھول کے نام شامل ہیں۔ آپ چوہدری تھے مگر اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح اپنے نام کے ساتھ چوہدری کے بجائے رامے کا لاحقہ اختیار کیا اور پھر یہی ان کا تخلص بھی ٹھہرا تھا۔ محمد حنیف رامے مرحوم نے ”پنجاب کا مقدمہ“ کے موضوع پر اپنی کتاب اردو میں لکھی اور اس کی توجیح یہ پیش کی کہ انہیں یہ کتاب اردو میں اس لئے بھی لکھنا پڑی کیونکہ پڑھے لکھے پنجابیوں نے پنجابی زبان کو چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے پیش لفظ میں مزید لکھا کہ وہ اس دور کے کروڑوں پنجابیوں کو نہ صرف پنجاب کی عظمت کیلئے بلکے پورے پاکستان کے استحکام اور یکجہتی کیلئے بھی جگا رہے ہیں۔ ان کی کتاب میں انھوں نے پنجاب کے لوگوں کو مضبوط پاکستان کی خاطر پنجابیت سے جڑے رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے مضبوط پاکستان اور پنجابیت کو ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”میرا ایمان ہے کہ پنجاب نے پنجابیت اختیار نہ کی تو وہ پاکستان کو بھی لے ڈوبے گا"۔ میری ذاتی رائے میں جب تک ہمارے وطن عزیز میں علاقائی زبانیں اور تقافت فروغ نہیں پاتا تب تک پاکستان مستحکم اور مضبوط نہیں ہو سکتا ہے۔ حنیف رامے صاحب اہل پنجاب کو ان کی خاموشی پہ جھنجھوڑتے ہوئے اہل پنجاب سے یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ پاکستان کی بقإ چاہتے ہیں تو نہ صرف اپنی پنجابیت اختیار کرے بلکہ پوری عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوکر صوبائی خودمختاری کی جنگ بھی لڑے۔
جو بات اور نقطہ میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی سے اردو زبان اور استحکام پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس سے سے اردو زبان اور ملکی اتحاد کو مزید استحکام ملے گا ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر علاقے کی اپنی ایک محصوص ثقافت ہوتی ہے جو اس علاقے کی زبان سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ بہت سے الفاظ اور محاورے اس محصوص ثقافت کی بدولت وجود میں آتے ہیں۔ ان ہی نئے وجود میں آنے والے الفاظ میں سے بہت سے الفاظ بعد میں دوسری زبانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں ہے۔ اس طرح ایک مخصوص ثقافت کا اثر دوسری ثقافت اور اس کی زبان پر پڑتا ہے۔ اگر یہی الفاظ کے تبادلے رک جائیں تو پھر زبان کمزور یا پھر مردہ ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں بہت سی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں جن کے الفاظ آپ کو بہت سی دوسری زبانوں خاص طور پر اردو زبان میں ضرور نظر آئیں گے۔ پاکستان میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں میں سندھی، پنجابی، پشتو ، بلوچی، کشمیری، سرائیکی، ہندکو، براہوی، گجراتی اور بعض دوسری علاقائی زبانیں بھی شامل ہیں۔ علاقائی زبانوں کے سوچ افکار نہ صرف قومی زبان کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ علاقے کے افراد کو قومی زبان سے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمیں علاقائی زبانوں کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا اور ان کی ترقی و ترویج کے لئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہونگے ورنہ تو ایک پنجاب کے مقدمے کے بجائے ہمیں بہت سے علاقائی زبانوں کے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اخر میں حنیف رامے مرحوم کی بات کو کچھ اضافے کے ساتھ مزید آگے بڑھاتے ہوئے اتنا ضرور کہوں گا کہ مضبوط پاکستان اور علاقائی زبانوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور اگر پاکستانیوں نے اپنی علاقائی زبانوں سے محبت اختیار نہ کی تو وہ پاکستان کی یکجہتی کو بھی لے ڈوبیں گے۔
اظہارِ رائے کی آزادی جسے انگریزی میں فریڈم آف سپیچ اینڈ ایکسپریشن کہا جاتاہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا سادہ سامطلب بولنے کی آزادی ہے، اس میں لکھنے کی آزادی بھی شامل ہے۔کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہریوں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے. اسی اظہار رائے کی آزادی سے ہمیں اختلاف رائے کا پتہ چلتا ہے اور اجتماعی طور آپس میں اختلاف رائے کا پایا جانا کسی بھی جمہوری معاشرے کی ترقی اور نمو میں اہم کردار ادا کرتا ہے. جب کسی بھی موضوع پر محتلف رائے سامنے آتی ہیں، تو اس سے ہمیں اس زیرِ بحث موضوع کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ایک موضوع یا مسئلے پر ایک سے زیادہ لوگ اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تو دراصل وہ تمام لوگ اپنی فہم و فراست اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مسئلے کے پائیدار حل یا کسی منصوبے کی بہتری میں اپنے حصے کی شمع روشن کر رہے ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ایسی سینکڑوں مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں پر عظیم لوگوں کے درمیان بھی مختلف امور پر اختلاف رائے پایا جاتا تھا جس کا مقصد کسی بھی معاملے پر مختلف پہلوؤں سے غور کر کے اس کی خامیوں کو کم سے کم کرنا تھا.
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے اور اسی امر کے پیش نظر اسمبلیوں میں حزب اختلاف کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے. پاکستان کی موجودہ سیاست میں یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ ناصرف پارلیمنٹ بلکہ سیاسی پارٹیوں کے اکابرین میں بھی مختلف امور پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ سیاست دان اس اختلاف رائے کے رکھنے کے باوجود بھی ایک چھتری تلے سیاسی عمل میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں.
حضرت مفتی شفیع رحمة اللّہ علیہ اختلاف رائے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اہل عقل بصیرت پر مخفی نہیں کہ دینی و دنیوی دونوں قسم کے معاملات میں بہت سے مسائل ایسے آتے ہیں جن میں آراء مختلف ہو سکتی ہیں ان میں اختلاف عین عقل و دیانت کے مطابق ہے. وہ مزید بتاتے ہیں کہ ان میں اتفاق دو صورتوں میں ہو سکتا ہے ایک تو یہ کہ اس مجمع میں کوئی اہل بصیرت و اہل رائے نہ ہو یا پھر جان بوجھ کر اپنے ضمیر اور رائے کے خلاف دوسرے کی بات سے اتفاق کرے.
ہمارے وطن عزیز میں کچھ لوگوں کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں جیسے ملک میں کوئی بہت بڑا کہرام مچ گیا ہو. اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات اختلافات اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں جس سے بڑے بڑے نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے مگر کسی ایک مسئلے پر اختلاف رائے کو اتنی ہوا دینا اور لوگوں میں ایک منفی تاثر پیدا کرنا کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے. حال ہی میں کچھ امور پر ایسے واقعات جن کا تعلق اہم اداروں سے متعلق قانون سازی سے تھا، بہت زیادہ واویلا کیا گیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا اور ایک غیر یقینی کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جو کہ ایک غیر ضروری واویلا تھا. میری ذاتی رائے میں اس طرح اختلاف رائے پر غیر ضروری تبصروں اور واویلا سے اجتناب کرنا چاہیے اور حکومت، پارٹیوں، گروپوں وغیرہ کے درمیان موجود اختلاف رائے کو مثبت انداز میں دیکھتے ہوئے اپنی زبان اور قلم کو ملک اور قوم کی بہتری کے لیے مثبت انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ غیر ضروری اختلاف رائے رکھنے والوں کیلئے اعجاز رحمانی کی زبان میں اتنا ہی کہوں گا
اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرے
مگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرے
اسے تو اپنی بھی صورت نظر نہیں آتی
وہ اپنے شیشۂ دل کی تو گرد صاف کرے!
https://www.mukaalma.com/90815/

کسی بھی جمہوری معاشرےمیں سیاسی آزادی بڑی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں جمہوری اقدار کمزور ہو جاتی ہیں، وہاں پر سیاسی آزادی کو اپنے مزموم عزائم کے لیے منفی انداز میں پیش کیاجاتا ہے۔ مثلاٰ اگرکوئی فرد کسی حکومتی پالیسی پر تنقید کرے تو اُسے غدار اور ملک دُشمن کا لقب دے دیا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں سیاسی آزادی اور غداری جیسے تصورات میں فرق سمجھنا بہت ضروری ہے، خاص کر اُس معاشرے میں جہاں کافر، غدار اور ایجنٹ جیسے فتوے لگانا کوئی مشکل کام نہ ہو۔ شاید اسی لیے احمد فراز نے کہا تھا۔
پھر وہی خوف کی دیوار، تذبذب کی فضا
پھر ہوئیں عام وہی اہلِ ریا کی باتیں
نعرۂ حُبِ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دینِ خدا کی باتیں
جب کسی معاشرے میں ایک خاص طبقہ اپنے مزموم عزائم کے لیے لوگوں میں سیاسی شعُور کو ایک خاص سمت میں ڈیکٹیٹ کرتا ہے اور جہاں اُن کے اندر اُٹھنے والے بنیادی سوالوں کو دبایا جاتاہے، تو ایسا معاشرہ ذہنی اور شعوری طور پر بانجھ پن کا شکا رہو جاتاہے۔ اور جب کوئی معاشرہ ذہنی پسماندگی کا شکار ہوتاہے تو پھر وہاں پر ارسطو ، افلاطون اور فرابی جیسے فلاسفرنہیں بلکے صرف شاہ دولا کے چوہے ہی جنم لیتے ہیں۔
آج ہمارے معاشرےکی حالت بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔آج بھی ہمارے معاشرے میں لوگوں کی سیاسی آزادی کودبایا جاتاہے۔ اُن کے جائزحقوق کے لیئے بولنے والوں کوڈرایا اور دھمکایاجاتاہے۔ وہ میڈیا جسے لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا تھا آج اُسے ریٹنگ کی دوڑ سے فرصت نہیں ہے۔ ہمارا میڈیا دو گروپوں میں تقسیم ہوکر ایک نوازشات ( ن لیگ) دوسرا عمرانیات ( عمران لیگ )کی کوریج میں مصروف ہے۔ آج ہمارے ملک کے محتلف علاقوں میں لوگ اپنے بنیادی سیاسی اور انسانی حقوق کے لیئے مظاہرے کررہے ہیں اور چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ آزادی ہے؟ اور مجال ہے جو عوامی نمائندوں، میڈیا اور با اثر افرادکو کو ان لوگوں کی ایک بھی سسکی سُنائی دے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کی یہ پارلئمنٹ انگریزوں کے بنائے ہوئے ایک قانون تک کو بھی نہ ختم کر سکی جس نے فاٹا کے عوام کا جنیا حرام کیا ہواہے ۔ا ب حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں۔ ایک تو وہ ان لوگوں کی آواز کو دبادیں یا پھر وہ ان کے ساتھ مزاکرات کر کے ان کے مسائل کا کوئی دیرپا سیاسی حل تلاش کریں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دھشت گردی جیسے لعنت کو ختم کرنے کے لیئے حکومت کو غیرمعمولی اقدامات کرنے چاہییں۔ مگر ان غیر معمولی اقدامات کی آڑ میں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب نہ کیا جائے۔لوگوں کو ان کے سیاسی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ انسان کو زندہ رہنے کے لیے صرف ہوا، پانی اور خوراک کی ہی ضرورت نہیں ہوتی بلکے زندہ رہنے کے لیے انسان کو اور بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ آج کا انسان صرف کسی حد تک پاپندیاں برداشت کر سکتا ہے اور جب اُس کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گا تو وہ احمد ندیم قاسمی کی ایک نظم کی طرح بولنے لگے گا۔
زندگی کے جتنے دروازے ہیں، مجھ پر بند ہیں۔
دیکھنا، حدِنظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا جرم ہے۔
سوچنا ! اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے۔
آسماں در آسماں کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے۔ کیوں بھی کہنا جرم ہے،کیسےبھی کہنا جرم ہے۔ سانس لینے کی تو آزادی ہے مگر زندہ رہنے کےلئے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے اور اس کچھ اور کا بھی تزکرہ بھی جرم ہے۔
اے ! ہنرمندانِ آئین و سیاست، اے ! خداوندانِ ایوان و عقائد
زندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیے۔ مجھ کو اِن سارے جرائم کی اجازت چاہئیے۔
The issue of Iran’s nuclear program and capability has involved the regional countries and Western powers in a controversy. Iran argues that using nuclear technology for the peaceful purpose its right, which cannot be denied. It claims that its nuclear programme is for the peaceful purpose and future energy requirements, which are depleting with the passage of time. However, International Atomic Energy Agency IAEA shows its concerns over dubious and suspicious nuclear activities. The United States intelligence reports also revealed that its programme is suspicious. United States, Israel and EU are also of the opinion that Tehran is moving towards the nuclear weapons but on the other hand the Tehran’s officials are constantly denying it.
Some of the Gulf states have the potential to developed their own nuclear weapon capability to balance the threat of a Nuclear-Iran. This will start a nuclear arms race in the region which will increase the chances of nuclear war. Similarly, Iranian is alleged of supporting non-state actors for achieving its objectives in the region can lead to a dangerous situation leading to crisis with a nuclear dimension. Iran is continuously working on improving its military strength based on a nuclear capability. The regional politics is also important in this regard, as there are several atomic powers like Pakistan, India, China, Russia and Israel. Iran has strong feelings that only the nuclear capabilities can secure its national integrity. Presence of the US and NATO troops in Afghanistan and the US’ military bases in the Gulf and Central Asia are posing a security challenge for Iran. The US is keen to implement its containment strategy to halt Iran’s nuclear quest. Other major powers are also trying to reach an understanding with Iran over the nuclear issue. The US and its allies are perceiving threats from non-state actors in Iraq, Syria and Afghanistan and accusing Iran for its military support to non-state actors. A nuclear-armed Iran can be a threat and will affect the US objectives in the region. Thus, the United States strategy of isolating Iran from the international community and stopping its nuclear program seems rational.
In response to Iranian nuclear issue, the United States has embarked on a series of economic and diplomatic sanctions on Iran. Moreover, the European Union and United Nations Security Council has also supported the strategy of isolation and sanctioning Iran. The United Nations and European Union has banned Iranian exports of oil and gas to strengthen the sanctions regime. This lead to further standoff between Iran and the west especially the USA. However, China, Russia and even some European states are reluctant over strict punitive economic sanctions.
Some Western experts believe that Iran is using delay-tactics through diplomacy and time-consuming negotiations. In these circumstances, Iran’s strategy to gain time is probably to push its nuclear program. These experts recommend strict measures from the non-proliferation regime which would probably compel Iran compliance with international obligations. To address Iranian reservations, it would probably help the international community to resolve the nuclear issue once for all. Iran views its uranium enrichment facilities are part of its civilian nuclear program but the west denies Iran’s claim. Although Iran’s nuclear energy program is under the umbrella of Nuclear Non-Proliferation Treaty but IAEA (International Atomic Energy Agency) has serious reservations that Iran found in non-compliance with its NPT safeguard agreements. As the situation has not improved, regional security seems under strain. A resolution though diplomatic channel could addressed the Iran’s security interests as well as western concerns over Iran’s nuclear quest.
There are some assumptions about Iran nuclear programme. The first assumption on the Iranian rhetoric behavior is that Iran just wants to remained at the threshold of developing the nuclear weapons while not actually crossing the redline, which would keep its stakes high within the international community and enable Iran to remain in a strong bargaining position. The other group of experts conceives that Iran is actually worried about its security especially after having witnessed the fate of Afghanistan, Iraq, Libya and Syria and the only possibility to avoid such a fate is to have a nuclear deterrence. These experts also view the North Korean decision of withdrawing from the NPT and testing a nuclear device in the same context. The third group of experts, actually very less in number considered Iran nuclear program is solely meant for the power generation due to depleting oil and gas reserves in the Gulf region. The International Atomic Energy Agency relationship with Iran has remained very potholed. The Western influence on the international watch dog agency is well known thus its attitude towards Iran and Pakistan have been different from that of Israel and India. Although there was never a conclusive evidence of Iran actively pursuing a nuclear program for military purposes, yet punitive sanctions were imposed on Iran over the IAEA reports, which were allegedly prepared under the US and western pressures. The IAEA also remained successful in getting the additional protocol signed from Iran which although could not be got ratified due to the unexpected change of the Iranian government in 2005. However, Obama’s Administration has changed its policy towards Iran using a mix of sanctions and promised rewards. This US approach helped the IAEA to successfully negotiate an interim nuclear deal with Iran that is seen as a first step towards resolving the Iranian nuclear issue through peaceful means. The Overall impact of the Iranian nuclear weapon on the non-proliferation could be negative. However, the fears of a nuclear domino effect look less probable. The states which are not enjoying very cordial relations with Iran like Saudi Arabia, Qatar, and Bahrain, might rely more on the global powers like the US. The nuclear program of Iran is facing a lot of challenges due to Iran strategic location which is disintegrated and volatile part of Middle East, where Israel, the strategic partner of the USA is already equipped with the nuclear weapons. The pressure on Iran is not only due to its nuclear activities, but also due to its the Middle East policies that stand in deep contradiction with those of the US. Factors such of the Iran’s support for proxies like Hamas and Hezbollah, opposition of Israel while the US presence around Iran in Afghanistan, Iraq and the Gulf, are some causes of strong concern for Iran. Iran’s nuclear program for military purpose is not acceptable to the US and its allies. In addition to that US has the option to deploy weapons to its established strategy of extended deterrence. With this strategy, the US can limit the influence of Iran in the region. On the other hand, Russia and China can be important to help fight the proliferation of the nuclear weapons. However, the US collaboration with these states can increase pressure on Iran. Russia and China can play a role to prevent Iran from the nuclear weapons quest. However, Russia and China seem to have different perceptions of Iran’s nuclear programme. In case of any military strike against Iranian nuclear sites would turn into as an emerging threat to regional security. Iran will be ready for a robust response. Therefore, the use of force considered last option on the table for the Iranian nuclear issue. Failure of western diplomacy could eventually lead them to military option, which is threat to regional peace. The successful implantation of Iran nuclear deal, which is halt under Trump’s administration will bring positive changes in future; he proclaimed the possibilities of interaction between the USA and Iran for achieving common interest and goal.
Email: smk.imperial@gmail.com
عالمی سیاست میں بظاہر تمام ریاستں برابر اور حود محتار ہوتی ہیں۔ لیکن اس بات کو سمجھنا بہت
ضروری ہے کہ تمام ریاستں معاشی، سیاسی، دفاعی اورمعاشرتی طورپرایک طرح سے نہیں ہوتیں۔ عالمی سیاست میں ذاتی مفاد کسی بھی ریاست کے لیے سب سے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ عالمی سیاست میں مذھب، اخلاقیات، رشتے وغیرہ کی کوئی اھمیت نیہں ہوتی۔ ریاستوں کو تو عشق ہوتا ہے نہ ہی وہ کسی کے پیار میں مبتلا ہوتیں ہیں۔ عالمی ریاستیں جب ایک دوسرے سے کسی بھی قسم کی معاملات طے کرتے وقت اُس ریاست کی قد کاٹ کو اُس کی معاشی، سیاسی، دفاعی طاقت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ مثلا اگرکسی بھی عالمی مسئلے پربحث کرناہویا اُس کا حل تلاش کرنا ہو تواُس میں بڑی طاقتوں اور اہم ممالک کو بُلایا جائے گا۔ اگر دُنیا کے کسی بھی حصےمیں کوئی بھی مسئلہ ہوتو بڑی طاقتیں ہی فصیلہ کرتی ہیں کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو گا۔
اب اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ اول بات تو یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہماری عوام کی اکثریت امریکہ، روس ، یورپ کو اپنا دُشمن سمجھتے ہیں اور پھر ان دشمنوں کو مختلف عالمی معاملات میں اپیل اور گزارشات بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اور کچھ غیرت مند تو دھمکیاں تک دے رہے ہو تے ہیں۔ ہماری عوام کو عراق ،شام ، یمن وغیرہ کے مسئلوں سے بہت زیادہ دُکھ اور تکلیف ہوتی ہے اور وہ بھر پور انداز میں عالمی طاقتوں کی مزاحمت بھی کرتے ہیں اور کبھی کبھی عالمی طاقتوں سے اپیل بھی کرتےہیں کہ فوری اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ ہماری عوام کو شاید یہ پتہ نہیں کہ دُنیا اور عالمی طاقتوں کو ہماری کوئی پروا نہں کرتی چاہے ہم اپنے پورے ملک کو آگ لگا دیں اور اُلٹا لٹک جائیں۔ جب برصعیرکے مسلما نوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کو تقسیم نہ کیا جائے، تو برطانیہ نے اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر وہی کیا جواُس کی قومی مفاد میں تھا۔ ایک وقت تھا جب پاکستان امریکہ کا لاڈلہ ہوا کرتا تھا اور امریکہ اپنے سرد جنگ کے لیے پاکستان کی مدد لیتا تھا۔ اُس وقت امریکہ پاکستان کو محتلف قسم کی امداد دیتاتھا اور چھوٹی موٹی مستیاں بھی برداشت کر لیتا تھا۔ مگر سرد جنگ میں اپنا مفاد پُورا کرنے کے بعد امریکہ اپنے موجودہ مفادات کو مدنظر رکھتا ہے۔ اب پاکستان کی ہنرمندان آئین و سیاست اور غیور عوام کویہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ کھوکلے نعروں اور زندہ باد اور مردہ باد سے نہ تو ہم کسی بھی مظلوم قوم کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہم ظالم کا ہاتھ روک سکتے ہیں۔ جب تک ہمارا قد کاٹ عالمی برادری میں بڑھ نہیں جاتا تب تک ہماری کوئی آواز نہیں سُنے گا۔ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہو گا اور اپنی معاشی اور سیاسی قد کاٹ کو بڑھانا ہواگا۔ ہمیں قرضہ لینا بند کرنا ہو گا۔ ہم دُنیا کو تب ہی ڈیکٹیٹ کریں گے جب ہم دُنیا کو کچھ دینے کے قابل ہو سکیں گے۔ اپنی موجودہ صورت حال کو دیکھ کر مجھے انگریزی کا وہ محاورہ یاد آتا ہے۔
"beggars can't be choosers
پروگرام : دا نن سوال / آج کا سوال ( نشر مکرر) موضوع : یوم پاکستان (پشتو زبان میں ) مہمان: پرنسپل / لیث محمد - ( محکمہ ابتدائی و ثانوی ...